کمرے کی بوسیدہ دیواریں اور جھکی ہوئی چھت اور اس کے نیچے ایک عمر رسیدہ ناتواں جسم خلاؤں میں حیرانگی کی مجسم تصویر لیے انگشت بداں ہے۔
ماضی کے جھروکے اپنے پردوں کی اوٹ سے مسکراتے ہوئے یادوں کی حسین پٹاری کو کھولتے در و در نکلتے آ رہے ہیں۔
ماضی کی کتابوں کو کھولتے ہوئے ایک حسین کہانی اپنی تمام جزوئیات کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔

ہم اور ہمارے ہمسائے
دیوار سے دیوار ملی ہوئی، ہر لمحے کی خبر، ہر خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔
مجھے یاد ہے امی اور ابو صبح خیز تھے، تہجد کا باقاعدہ اہتمام ہوتا اور پھر فجر کے بعد بی بی سی لندن اور سحر بین پروگرام کا شروع ہونا۔ ایک کمرہ اور اس پہ یہ ریڈیو کی آواز۔
ابو! نیند خراب ہو رہی ہے۔
مگر وہی پیار بھرا انداز، بچوں! صبح برکتوں والی ہوتی ہے۔
مگر پڑوس میں تو سب سو رہے ہیں، ہمارا جواب ہوتا۔
مگر اسی خندہ پیشانی سے ماتھا چوم کر صبح کے بے شمار فوائد گنوانا شروع ہو جاتے۔ تازہ ہوا، ٹھنڈا میٹھا پانی، صبح کا ناشتہ اور پھر اپنے کاموں میں مصروف ہونا۔ جس کا فائدہ یہ بتایا جاتا کہ دن بڑا ہو جاتا ہے اور کام بھرپور طریقے سے آسان ہو جاتے ہیں۔
آج جب ایک بھرپور اور مطمئن زندگی کی بانہوں میں آسودگی کے جھولے میں بیٹھی ہوں تو اپنے پیاروں پہ بہت پیار آ رہا ہے۔ جیسے کسی جادو کی چھڑی ہاتھ میں تھما گئے کہ ہر چیز آسانیوں کی طرف مڑتی چلی گئی۔
صبح کی سادہ خوراک اور سورج کی کرنوں کے ساتھ اپنے مستقبل کو سنوارنے کا عزم لے کر مکتب میں جانا، اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر پڑھنا، کھیلنا، دکھ درد میں ایک دوسرے کے کام آنا۔ ایک دوسرے کی کامیابیوں کو کھلے دل سے سراہنا، اپنے کام کے ساتھ دوسروں کی مدد کے لیے بھی ہمہ تن گوش رہنا، نگاہ نیچے، قدموں میں تیزی، کوسوں دور بھی بغیر کسی سواری کے دوڑتے بھاگتے منزل تک جانا اور پھر آنا۔ رات آرام اور دن مختلف کاموں کی اماجگاہ بن جاتا ہے۔ تخیل میں وہ ہنستے مسکراتے چہرے سامنے آتے ہیں جو طرزِ زندگی کا سہل انداز سکھاتے ہیں۔

غور کریں تو کیا ہے اچھا گھر؟ تین وقت کا بہترین کھانا، گھومنا، اگر یہ بہترین ہے تو پھر یہ تو سب کے پاس ہے۔ سب کا طرزِ زندگی یکساں اور خوشحالی کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اور اگر نہیں تو باعثِ فکر ہے کہ ایک ہی جگہ آنے جانے والے، کام کرنے والے لوگ کبھی کبھی ایک دوسرے سے الگ کام کر جاتے ہیں۔ الگ بات کرتے ہیں، الگ سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔ مقامِ فکر ہے کہ ان لوگوں کا طرزِ زندگی یقیناً الگ ہے۔ بیٹھنے کا عمل الگ ہے۔ کوئی رات گئے جاگنے کا عادی، رات کا کھانا دیر سے کھانے کا عادی۔ ان کے اعصاب بری طرح شل ہو رہے ہیں۔ شب کی بیداری انہیں سستی اور کاہلی کی طرف لے جا رہی ہے۔ نیند کی کمی سارا دن ان کے اعصاب کو بوجھل بنا رہی ہے۔ ان کی سوچوں کو محدود کر دیتی ہے۔
اور اسی جگہ ایک چاک و چوبند وجود جو اپنی بھرپور نیند کے بعد صبح کی تازگی کو اپنے اندر سموتا۔ ایک صحت مند جسم اور متوازن خوراک کے ساتھ اپنے دن کا بہترین آغاز کرنے کے لیے تیار۔ اس کی تخلیقی کاوش بہت پرواز چڑھتی ہے۔ جائز خواہشات کے ساتھ گھروں میں رہنے کے لیے بھی کسی بھی بھاگ دوڑ میں شامل نہیں، جو ہے اس پر مطمئن و شاداں، آگے کی جستجو مگر اعتدال کے ساتھ، سکون و آرام کے ساتھ، راحت و سرشاری کے ساتھ، ادب و احترام کے ساتھ، پاکیزگی و طہارت کے ساتھ اپنی زندگی کو دوسرے کے لیے مثالی بناتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کو دیکھنے والی آنکھیں حسرت و یاس کی تصویر نہیں بلکہ ضرط و انتباس کی عملی تصویر ہیں۔
سکون کی چراگاہوں اور بہتے ہوئے خوشیوں کے جھرنے ان کے طرزِ زندگی کو بہترین قرار دیتے ہیں۔ یہ وہ اعلان کرتے ہیں جو ہر گلی، ہر کوچے میں گونجنا چاہیے کہ یہ وہ زندگی گزارنے کا عمل ہے جو آسان اور فرحت انگیز ہے، جس میں رشتوں کا تقدس پامال نہیں کیا جاتا ہے، جس میں برتری کا احساس نہیں، نفرتوں کا پاس نہیں، عداوتوں کا شکار نہیں۔
مثالی طرزِ زندگی
تو پھر مثالی طرزِ زندگی تو یہی ٹھہرا کہ آپ کی ذات دوسروں کے لیے باعثِ افتخار ہو، ایک دوسرے کی مروجہ ضرورتوں کا خیال ہو، بدگمانی کا شائبہ نہ ہو، وقت کی لگام ہاتھ سے نہ چھوٹے اور اپنی زندگی بے یار و مددگار نہ ٹھہرے۔ ایسی عمدہ طرزِ زندگی جو دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ہو اور اپنے لیے تو صرف نفع ہی نفع۔
سکون کا وقت ہو اور پیار کا بچھونا ہو
اے غمِ زندگی میرے ہاتھ یہ کھلونا ہو
یعنی زندگی میری رات سکون کی آغوش میں ہو اور صبح کی دو پہلی کرنیں مجھے دوبارہ زندہ ہونے کا احساس دلائیں۔ کوئی مدھر آواز میرے کانوں میں محبت کا رس ٹپکائے، تازہ اور سادہ کھانا میرا استقبال کرے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مجھے چستی کی چادر میں ڈھانپ لیں تاکہ میرے ذہن کو صحت مند لفظوں کا سہارا ملے اور میری تقدیر ایک جگمگاتا ہوا تارا بنے۔ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا قرینہ آئے، یعنی مجھے بھی تو سب کے ساتھ جینا ہے۔
ہر روز کامیابیوں کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور ہم آگے، بہت آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ اس رحمان کی حمد و ثنا کے باعث، اس کے بھیجے ہوئے قرآن کے باعث اپنے ہر عمل کو بہترین بناتے ہوئے زندگی کو نہ صرف کامیاب بنائیں بلکہ ایسا کچھ کریں کہ دوسرے بھی راستے پر آتے جائیں۔
آؤ، ہم وہاں چلیں جہاں پھول کھلیں، جہاں دریا بہیں، جہاں روشن چاند ستارے ہوں۔ ایک ایسی طرز سے زندگی گزاریں جو ہمارے مرنے کے بعد بھی لوگوں کے ذہنوں میں روشن اور بہترین یادیں بن کر رہ جائے۔کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہماری موجودگی سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئے اور ہمارے کردار سے کسی کو بہتر راستہ ملے۔









Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.