صحت مند جسم، صحت مند ذہن اور پُرسکون معاشرہ
ایک مشہور مقولہ ہے کہ صحت مند جسم صحت مند ذہن کو پرورش دیتا ہے اور ان دونوں کے باہمی ملاپ سے بہترین سوچ پیدا ہو کر پُرسکون اور پُراعتماد معاشرے کو قائم رکھتی ہے، جس کی وجہ سے تمام منفی رجحانات ختم ہو جاتے ہیں۔ خیالات پُرامن اور عملی ہوتے ہیں، محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے جڑے رشتوں سے پیار کرنا، ان کو نبھانا شروع کرتے ہیں اور یہ سلسلہ بتدریج بڑھتا ہوا معاشرے کو جدید ترقی کی راہ پر آگے اور آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ سکون کی نرم اور سُکھ میٹھی فضا ہر ایک کا مقدر بن جاتی ہے۔
مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ صحت کیا ہے۔۔۔ جسم کا موٹا ہونا، گالوں کا لال ہونا، بالوں کا گھنا ہونا، کھانا کھانا یا سونا۔۔۔ موٹا تو جسم زیادہ کھانے سے بھی ہوتا ہے، گال لال تو دھوپ کی تمازت سے بھی ہوتے ہیں، بالوں کا موٹا اور گھنا ہونا خاندانی میراث بھی ہو سکتی ہے۔

یقیناً صحت کوئی ایسا بیش قیمت ہیرا ہے جس کا ہونا راحت و سکون اور نہ ہونا تباہی ہی تباہی۔ پھر تو صحت انمول ہے۔ ہاتھ پاؤں کا مضبوط ہونا، نظر کا تیز ہونا، سماعت کا بے کراں ہونا، جسم کا طاقتور ہونا، وقت پر کھانا اور اس کا بہترین طریقے سے ہضم ہونا۔ جسم کا لیٹنا اور آنکھ کا بند ہونا پُرسکون نیند کا بہترین عکس ہے۔ چستی پھرتی اور پھر بھرپور توانائی، دلکش مسکراہٹ اور طمانیت کا احساس صحت کی زینت بنتی ہیں۔ وقت کا صحیح استعمال یعنی دن میں کام اور رات میں آرام صحت کو عروج بنا دیتی ہیں، مگر اس کو قائم رکھنا بھی بے حد ضروری ہے، جو جسم کے لیے صدقۂ جاریہ کا کام دیتی ہیں۔
چلتے وقت قدموں کا متوازن اٹھانا اور پھر زمین پر رکھنا، کمر کا سیدھا رکھنا، سر کو اٹھا کر نگاہ کو جھکا کر چلنا، سانسوں کا ہموار طریقے سے لینا، اچھی خوشبو سونگھنا، بری سے اپنی ناک کو ڈھانپنا، زبان سے اچھا کھانا اور کڑوا تھوک دینا، غصہ نہ کرنا، نرم گفتار رکھنا، اچھی سوچ اور اچھا عمل کرنا، منفی اثرات سے بچنا۔
اسلامی اصول، اچھی صحت اور بہترین معاشرے کی بنیاد
ارے بات کرتے کرتے غور و فکر میں ڈوبی تو اپنے وجود کو اسلام کے عمیق سمندر میں پایا، سر کو فخر سے بلند کیا تو اپنے آپ پر خوب پیار آیا کہ اسلام نے جو صحت کے لیے اصول چودہ سو سال پہلے بتائے ہیں، میری اچھی صحت، میرے اچھے عمل انہی اصولوں کی بدولت ہیں۔ تازہ اور سادہ غذا میرے ہاضمے کو بہترین بنائے ہوئے ہے۔ میری ورزش میری نماز کے اندر پنہاں ہے۔ پانچ وقت سیدھے کھڑے ہونا، ہاتھ کو اوپر نیچے کرنا، رکوع اور سجود میں جسم کی مختلف حالتوں کو بیان کرنے، گردن کا دائیں بائیں گھمانا، سچ یہ تو ایک نعمت ہے جس کی برکتوں سے ہم مالا مال ہیں۔ صحت اچھی، ذہن مضبوط اور سوچ بامعنی اور متحرک ہے۔ اچھی صحت میری شان ہے، میرا مضبوط جسم میرا مان ہے۔

تندرست جسم ایک نعمتِ غیر منترکہ، جسے نہ کوئی چھین سکتا ہے نہ چرا سکتا ہے۔ ہاتھ پاؤں کی مضبوطی ہر وقت آپ کو باعمل رکھتی ہے۔ ہر وقت متحرک رہنے والا جسم، توانائی سے بھرپور ذہن، منتشر خیالات کی آماجگاہ ہوتے ہیں، لڑائی جھگڑے کا دور دور تک کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ ہر وقت عالمِ سکون کی کیفیت سے دوچار وجود تحریکی کاموں میں مشغول رہتا ہے۔
ساتھ میں رہنے والے لوگوں کا خیال رکھنا، ان کے ہر اچھے برے وقت میں ان کی دل جوئی کرنا، ایک دوسرے کے دکھ درد میں عملی طور پر ان کے ساتھ، ان کے مددگار بن کر رہنا، ان کے ساتھ ہر لمحہ ان کا بہترین سایہ بن کر رہنا، جس کی بدولت وہ اپنے تمام مصائب سے نہ صرف لڑتے بلکہ امن سے بآسانی چھٹکارا بھی پا لیتے ہیں۔ وقت کی لگامیں ان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں، کوئی بھی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بڑے ہی مطمئن انداز میں آگے بڑھتے، مسکراتی آنکھیں اور روشن پیشانی کی مجسم دلیل نظر آتے ہیں۔ یہ انمول ہیرے، جن کی چمک نہ صرف وقت کے ساتھ بتدریج آگے کی جانب بڑھتی ہے بلکہ اپنے حلقے میں دوسرے تمام احباب کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔
وقت کی قدر و منزلت خوب پھلتی پھولتی ہے۔ معاشرے میں تقسیم مساویانہ ہوتی ہے، چاہے وہ کھانا، کپڑا، گھر ہو یا تعلیم، ہر چیز بہترین ذہن کی تخلیق ہوتی ہے اور یہ بہترین ذہن بہترین جسم کا مرہونِ منت ہے۔ پس تو ثابت ہوا کہ بہترین جسم بہترین ذہن کو تخلیق کرتا ہے اور بہترین ذہن بہترین سوچ اور بہترین سوچ بہترین معاشرے کے وجود کا سبب بنتی ہے۔
ہر طرح کی برائی، جھوٹ، لالچ، حسد، نفرت، دشمنی، دھوکے اور فریب سے دور، محبت اور امن کا گہوارہ بہترین معاشرہ، بہترین اشخاص کی قیادت میں اپنے خوبصورت کارواں کو لیے آگے اور آگے بڑھتے ہوئے دنیا کی خوبصورتی کو محسوس کرتے، نغمگی اور شائستگی کا ثبوت دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کمزور جسم سے بھوک و افلاس شدت کے ساتھ آپ کے اوپر حملہ آور ہوتے ہیں۔ آپ کی سوچ کو منفی رجحانات کی طرف لے جاتے ہوئے قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ ان کے دل پُرسکون ہوتے ہیں اور نہ ان کی راتیں۔ ہر وقت گہری فکر کے سائے میں مبتلا کہ کب کوئی ان پر حملہ آور ہو اور یہ اپنے دفاع کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوں۔ کیونکہ نہ جسم میں طاقت، نہ ذہن مضبوط، نہ سوچ مضبوط، تو کیسا مقابلہ، کیسا امن و سکون، کیسی چاہت، کیسی راحت؟ سب کچھ بکھرنے کے لیے تیار۔
تو عہد کریں کہ اچھی صحت سے اپنے جسم کو ہمکنار کریں گے، تاکہ ہم بھی مثالی معاشرے کا فخر کہلا سکیں۔
صحت سلامت، ہم سلامت۔
ہم سلامت تو ہماری زندگی کے دن خوشیوں کی ضمانت بن کر ہمارے ہر لمحے کو روشن اور منور کریں گے اور ہمارے نہ ہونے کے باوجود ہمارے رویے، ہمارے افکار، ہمارے اطوار سب لوگوں کے دلوں میں، ان کے ذہنوں میں پیوست ہو کر ایک حسین یادگار بن جائیں گے اور ہماری آخرت باعثِ تسکین ہوگی۔






Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.