ایک مشہور مقولہ ہے کہ کھیل ہماری صحت مند زندگی کی روشن علامت ہے۔ یعنی زندگی کی بہترین کامیابی کھیل میں پنہاں ہے۔ اُف! میری اسی بات سے کہیں بحث کے دروازے تو نہیں کھل جائیں گے؟ تکرار بڑھ تو نہیں جائے گی؟ اگر بات بڑھتی ہوئی تکرار کے روزن میں داخل ہوئی تو بات سمجھ میں آنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ تو چلے چلتے ہیں۔
دورِ جہالت میں جہاں کچھ کرنے کو نہیں، صرف کھانا، سونا اور پینا۔ وقت پر اختیار نہیں، احساس کی پرواہ نہیں، جوش و خروش میں گم، منفی رجحانات کا فروغ، شعور سے نابلد، اپنی زندگی صرف اپنے اصولوں کے تحت اپنی بقا کے لیے گزارنا، تمام وقت لڑائی جھگڑوں میں رہتے ہوئے مار دھاڑ کا میدان سجا کر رکھنا، ایک دوسرے کے قرب سے خوفزدہ اپنی زندگی اور دوسرے کی زندگی کو ارزاں رکھتے ہوئے ہابیل اور قابیل کا کردار باخوبی نبھاتے ہوئے سیاہی کی دبیز چادر اوڑھے جئے چلے جا رہے ہیں۔
پھر اچانک وقت نے کروٹ لی اور ہم داخل ہوئے دورِ آگاہی میں۔ وقت کی تنابیں ہمارے ہاتھوں کی چاک بدستی کی اسیر ہوئیں۔ تقسیم مساویانہ ہوئی تو شعور کے دروازے کھلتے گئے۔ وہ طاقت جو ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر استعمال ہوتی تھی، ایک دوسرے سے مقابلے اور جیت کی سرشاری میں استعمال ہونے لگی اور رجحان اتنا بڑھا کہ ہاتھ پیر کی لڑائی باقاعدہ ملاکھڑا، کشتی، کبڈی اور باکسنگ کی شکل اختیار کر گئی۔ نیزے کو تیر اندازی اور جیولن تھرو کی شکل ورز ہر طرف حالت سکون طاری ہونے لگا اور یوں کھیلوں کی بنیاد پڑی۔

سارے دن کے تھکے ماندے جب اپنے گھروں میں لوٹتے تو تھکن اتارنے کے بعد شام کی ٹھنڈی ہوا میں میدانوں کا رخ کرتے۔ وہاں جمع ہو کر جو جس فن میں ماہر ہوتا وہ ایک گروپ کی شکل اختیار کر لیتا اور پھر اسی طرح سے مقابلے کا انعقاد ہوتا۔ اور اول دوم اور سوم آنے والے لوگوں کو انعام دیے جاتے۔ خوب بھول تاشے بچتے اور لوگ خوشی خوشی گھر واپس آ جاتے۔ ایک ایسی تھکن کی ساتھ جس میں خوشی اور شادمانی کا عنصر ہوتا اور نیند کی پرسکون آغوش اگلے دن کے لیے چاک و چوبند کرتی۔ بس سلسلہ در سلسلہ کھیل اتحاد و محبت کی مثال بنتا چلا گیا۔
کھیل، صحت اور معاشرہ
اس سے ثابت ہوا کہ کھیل صحت مند اور پرامن معاشرے کی بنیادی اساس بنا۔ جب مقابلے کا رجحان بڑھا تو جسم متحرک اور مضبوط بنانے کا جذبہ بیدار ہوا۔ تازہ ہوا اور ورزش لازمی جزو قرار پائیں۔ صبح کے تیز قدم اور شام کی چہل قدمی لازمہ موزوں ٹھہرے۔ کھیل نے جذبہ حب الوطنی کو بڑھایا اور پھر بین الاقوامی اتحاد کا مظہر قرار پایا۔ اگر غور و فکر کریں تو اس کھیل نے ہماری زندگی کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔ ہر عمل بہترین وقت کا انتظار کرنے لگا۔

بہترین تربیت
کھیل کے میدان کو دیکھتے ہوئے کھیل کی مختلف شکل ظہور میں آنے لگی، جس میں اجتماعی اور انفرادی کھیل وجود میں آنے لگے۔ وہ بھی جن کے لیے زیادہ سامان اور جگہ استعمال ہوتی ہو اور وہ بھی جو کم سامان اور کم جگہ پر ہوں۔ وہ جو اپنے جسم کے ساتھ آنکھوں کا استعمال بھی کریں جیسے بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور کہیں اپنی جسمانی قوت اور طاقت کا مظاہرہ جیسے ویٹ لفٹنگ، بال تھرو، ہیمر تھرو میں کہیں۔ ہیمر تھرو میں لٹاتے نظر آئیں۔ تو کہیں رفتار کا مظاہرہ، کہیں تیراکی، کہیں ایک ہی بال کے پیچھے دوڑتے ہوئے اپنے ملک کو جیت سے ہمکنار کرنے پر کوشاں۔
غرض اس کھیل نے تو ایک عجیب سماں پیدا کیا۔ باقاعدہ کھیل کا انتخاب کیا جاتا، مقابلے کا انعقاد ہوتا اور پھر سب ایک جگہ جمع ہو کر ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے اور جیتنے والے کے لیے بے پناہ تالیوں کا شور ہوتا۔ ذہن یکسوئی کے ساتھ اپنی ہمت و حوصلے کو بڑھاتے ہوئے اول دوم کی دوڑ میں گم۔
پھر اس کھیل میں اضافہ ہوا جمناسٹک اور ایروبک کا، آنکھوں کو حیران کر دینے والا کام۔ اپنے جسم کو مختلف زاویوں میں سیکنڈ کے عمل میں جمع کر رکھنا بظاہر ایک مشکل اور محنت طلب کام مگر نتائج حیران کن۔ ہماری قامت جو کہ ایک وقت میں کمزور ہونے لگتی ہے، جمناسٹک کی ابتدائی ورزشیں اس کو اپنے آنے والے وقت میں بہترین انداز سے سنوارتی ہیں۔ جس کی بدولت جسم کے اعضاء سیدھے توازن حالت میں رہتے ہوئے نہ صرف ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ ان کے افعال کو بھی تیز کرتے ہیں۔ جس کی بدولت صحت مند بیماریوں کے خلاف اپنی جدوجہد تیز رکھتا ہے اور ان سے محفوظ بھی رکھتا ہے۔
آپ نے سنا ہوگا کہ فلاں کھلاڑی کو شوگر ہو گئی، فلاں کے دل رفتار تیز ہو گئی، کسی کو کولیسٹرول بڑھ گیا تو کسی کا جوڑوں کا درد بڑھ گیا۔ کبھی گمان کیا کہ سب لوگوں کو جو ان بیماریوں میں مبتلا ہیں کسی نہ کسی عرصے میں ان سے مکمل نجات پا گئے۔ اس کی بنیادی وجہ جسم کو مختلف ورزشوں میں مصروف عمل رکھنا۔ صبح کے حسین موسم میں آہستہ اور تیز رفتاری سے چلنا، سانس کا آہستہ اور تیز چلنا جس سے جسم بھرپور توانائی حاصل کرکے آگے کے لیے بہترین کارساز ہو۔ اس کا صحت مند جسم، اس کی صحت مند ذہن سے ہمکنار کرے اور پھر بہترین ماحول وجود میں آئے جس سے سبھی افراد مستفیض ہوں اور اپنے وقت کو بہتر استعمال کریں۔
یہاں کھیل آپس میں بھائی چارے اور امن و امان کی فضا بھی قائم رکھتا ہے۔ اجتماعی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہنا، ایک کھیل کی جیت کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چلنا، ہمت و حوصلے کو بڑھانا، کمزوروں پر پردہ ڈالنا اور مقابلے کی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے جیت کی کوشش کرنا، یہ سب چونکہ باہمی مشاورت سے ممکن ہے، اس لیے ایک دوسرے کے تمام عیب، ان کی کوتاہی کو نظرانداز کر کے آگے بڑھانے کی کوشش بہترین اور دلچسپ مقابلے کو جنم دیتی ہے۔ پھر چاہے ایک بال کے پیچھے دوڑیں یا پھر ریس لگائیں، کبڈی ہو یا کشتی، رانی دماغ کھیل شطرنج ہو یا طاقت آزمانے کے لیے رسہ کشی، سب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جیتی جا سکتی ہے۔
وطنیت اور انا کا مسئلہ
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ کھیل بس جیت اور بہترین اسکل سے ہمکنار ہو اور جیت کھیل کے مروجہ اصولوں کے تحت ہو۔ تو پھر میدان گل و گلزار ہوں گے۔ اور اگر انا کا سودا کر کے چلیں تو وہ میدان، میدانِ جنگ کا نقشہ پیش کریں گے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا، چالاکی، لڑائی، دھوکہ جیسی بدترین خصلت پیدا ہوگی اور نتائج انتہائی بھیانک۔ بس کھیل کو بہترین ماحول میں کرنا ایک دوسرے سے محبت اور اعتماد کی فضا قائم رکھتا ہے بلکہ مثبت خیال کو پرواز چڑھاتا ہے۔ بہترین معاشرے کی تخلیق کرتا ہے جس سے معاشرہ پرامن اور پرسکون رہتا ہے۔ کھیل کے میدانوں میں کھیل کی ترقی ہے۔








Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.