گھر میں مہمانوں کی آمد ایک خوشی کا موقع ہوتی ہے۔ اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے ملنا، ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا اور چائے کے کپ پر پرانی یادیں تازہ کرنا واقعی اچھا لگتا ہے۔ لیکن یہ خوشی اس وقت ایک دلچسپ امتحان بن جاتی ہے جب مہمان بغیر اطلاع کے گھر پہنچ جائیں۔
خاص طور پر اگر گھر میں سب لوگ آرام کر رہے ہوں، کسی نے ابھی ناشتہ نہ کیا ہو، کمرے میں کپڑے بکھرے ہوں اور کچن میں برتنوں کی ایک الگ ہی دنیا آباد ہو، تو اچانک دروازے کی گھنٹی پورے گھر کا ماحول بدل دیتی ہے۔
بس پھر کیا ہوتا ہے! کوئی دوپٹہ ڈھونڈ رہا ہوتا ہے، کوئی صوفے پر پڑے کپڑے اٹھا رہا ہوتا ہے اور امی کی آواز پورے گھر میں گونج رہی ہوتی ہے: "جلدی کرو، مہمان آ گئے ہیں!"
1۔ اچانک مہمان آنے کی خبر
ہمارے گھروں میں کچھ مہمان ایسے ہوتے ہیں جنہیں آنے سے پہلے اطلاع دینا شاید ضروری محسوس نہیں ہوتا۔ وہ بس اچانک دروازے پر آ کر کہتے ہیں، "ہم تو ادھر سے گزر رہے تھے، سوچا آپ سے بھی ملتے جائیں۔"
اب انہیں کون سمجھائے کہ آپ کے گھر سے گزرنے کا مطلب یہ نہیں کہ گھر والے ہر وقت مہمان نوازی کے لیے تیار بیٹھے ہوں!
دروازے کی گھنٹی بجتے ہی گھر میں ایک ہنگامی اجلاس شروع ہو جاتا ہے۔ امی فوراً سب کو کام بتاتی ہیں۔ ایک کو کمرہ ٹھیک کرنے کا حکم ملتا ہے، دوسرے کو پانی رکھنے کا اور تیسرے کو کہا جاتا ہے کہ جلدی سے اپنا حلیہ درست کرو۔
اور جو بچہ آرام سے موبائل استعمال کر رہا ہوتا ہے، اسے بھی اچانک گھر کی عزت بچانے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔

2۔ امی کی صفائی مہم
مہمانوں کے آنے سے پہلے امی کی صفائی کی رفتار دیکھنے والی ہوتی ہے۔ جو چیز کئی دن سے اپنی جگہ پر نہیں رکھی گئی ہوتی، وہ بھی چند منٹوں میں اپنی جگہ پہنچ جاتی ہے۔
صوفے کے کشن سیدھے کیے جاتے ہیں، میز صاف ہوتی ہے، پردے درست کیے جاتے ہیں اور کمرے میں پڑی ہر غیر ضروری چیز کو کسی ایسے کمرے میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں مہمانوں کا جانا ممکن نہ ہو۔
امی کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ انہیں گھر کا ہر چھوٹا سا نشان نظر آ جاتا ہے۔
"یہ کپ یہاں کس نے رکھا؟"
"یہ جوتے دروازے کے پاس کیوں پڑے ہیں؟"
"ذرا دیکھو، میز پر دھول تو نہیں؟"
گھر والوں کو لگتا ہے کہ مہمان نہیں بلکہ کوئی صفائی کا مقابلہ ہونے والا ہے جس میں پورے خاندان نے حصہ لینا ہے۔
3۔ بچوں کو خاموش رہنے کی ہدایات
مہمانوں کے آنے سے پہلے بچوں کو خاص ہدایات دی جاتی ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ مہمانوں کے سامنے شور نہیں کرنا، لڑائی نہیں کرنی، اونچی آواز میں بات نہیں کرنی اور کسی کی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا۔
لیکن بچے بھی آخر بچے ہوتے ہیں!
جس بچے کو عام دنوں میں خاموش کروانا مشکل ہوتا ہے، وہ مہمانوں کے سامنے اچانک اتنا خاموش ہو جاتا ہے کہ سب پوچھنے لگتے ہیں، "آج طبیعت تو ٹھیک ہے؟"
اور کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو مہمانوں کے سامنے ہی گھر کے تمام راز کھول دیتے ہیں۔
مثلاً کوئی مہمان پیار سے پوچھ لے، "بیٹا، پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟"
تو بچہ فوراً جواب دے دیتا ہے، "امی تو کہتی ہیں کہ میں سارا دن موبائل چلاتا ہوں!"
بس پھر امی کی مسکراہٹ دیکھنے والی ہوتی ہے۔

4۔ چائے کے ساتھ کچھ خاص بھی ہونا چاہیے
ہمارے گھروں میں مہمان آئیں اور چائے نہ بنے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
چائے کے ساتھ بسکٹ، نمکو، سموسے، پکوڑے یا کوئی میٹھی چیز ضرور ہونی چاہیے۔ اگر گھر میں کچھ خاص موجود نہ ہو تو کچن میں فوری تیاری شروع ہو جاتی ہے۔
امی پوچھتی ہیں، "گھر میں بسکٹ ہیں؟"
کوئی جواب دیتا ہے، "نہیں!"
پھر دوسرا سوال ہوتا ہے، "نمکو تو ہوگی؟"
جواب آتا ہے، "وہ بھی ختم ہو گئی۔"
اب چائے کے ساتھ کیا پیش کیا جائے؟ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب کچن میں موجود ہر شخص اپنی اپنی رائے دینے لگتا ہے۔
کچھ گھروں میں تو مہمانوں کے لیے اتنی چیزیں تیار کی جاتی ہیں کہ مہمان خود حیران ہو کر پوچھتے ہیں، "آپ نے اتنی تکلیف کیوں کی؟"
اور میزبان کا روایتی جواب ہوتا ہے، "ارے نہیں نہیں، یہ تو کچھ بھی نہیں!"
حالانکہ اس کے پیچھے پورے گھر کی محنت چھپی ہوتی ہے۔

5۔ مہمانوں کی تعریف اور سوال
کچھ مہمان ایسے ہوتے ہیں جن کی نظر گھر کی ہر چیز پر ہوتی ہے۔ انہیں نئے پردے بھی نظر آ جاتے ہیں، نیا فرنیچر بھی اور کچن میں رکھی چھوٹی سی چیز بھی۔
وہ پوچھتے ہیں، "یہ کب لیا؟ کہاں سے لیا؟ کتنے کا لیا؟"
پھر گھر کے ہر فرد کی پڑھائی، کام، مصروفیات اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی بات ہوتی ہے۔
کبھی کبھی ان کے سوالات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ انسان سوچنے لگتا ہے کہ یہ ملاقات ہے یا انٹرویو!
لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ان کی گفتگو سے گھر میں رونق بھی رہتی ہے۔ ان کے سوالات اور دلچسپ باتیں بعد میں خاندان کے اندر مذاق کا حصہ بن جاتی ہیں۔
6۔ گھر والوں کا بدلتا انداز
کچھ گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں عام دنوں میں بہن بھائی ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔ کوئی کسی کا چارجر لے لیتا ہے، کوئی ریموٹ چھپا دیتا ہے اور کوئی دوسرے کو تنگ کرنے کا موقع نہیں چھوڑتا۔
لیکن جیسے ہی مہمان آتے ہیں، سب کے رویے میں اچانک تبدیلی آ جاتی ہے۔
اب ایک دوسرے کو پیار سے بلایا جاتا ہے، چیزیں بانٹی جاتی ہیں اور ہر کوئی مہمانوں کے سامنے بہت مہذب بننے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر کسی بہن سے پانی مانگا جائے تو وہ فوراً لے آتی ہے، حالانکہ عام دنوں میں اسی سے ایک گلاس پانی مانگنے پر دس منٹ کی بحث ہو سکتی ہے۔
یہ تبدیلی دیکھ کر لگتا ہے کہ مہمانوں کی آمد صرف گھر کی صفائی نہیں بلکہ گھر والوں کے رویوں کی بھی صفائی کر دیتی ہے!
7۔ وہ مہمان جو جانے کا نام نہیں لیتے
یہ شاید ہر گھر کی سب سے دلچسپ کہانی ہے۔
مہمان آتے ہیں، چائے پیتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور پھر جانے کے بجائے مزید باتیں شروع کر دیتے ہیں۔
میزبان کئی بار کہہ چکے ہوتے ہیں، "اچھا، پھر ملاقات ہوگی۔"
لیکن مہمان کہتے ہیں، "ہاں بس، اب چلتے ہیں۔"
اور اس کے بعد مزید آدھا گھنٹہ گزر جاتا ہے۔
پھر کوئی پرانی بات یاد آ جاتی ہے، کوئی نیا قصہ شروع ہو جاتا ہے اور جانے کی تیاری دوبارہ ملتوی ہو جاتی ہے۔
گھر والے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور دل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ شاید آج رات مہمانوں کے ساتھ ہی گزرے گی۔
البتہ کچھ مہمانوں کی صحبت اتنی اچھی ہوتی ہے کہ ان کے جانے کا احساس بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ہر لمبی ملاقات کو پریشانی سمجھنا بھی درست نہیں۔
8۔ مہمانوں کی روانگی
جب آخرکار مہمان رخصت ہو جاتے ہیں تو گھر میں ایک عجیب سا سکون چھا جاتا ہے۔
اب کوئی کشن سیدھا کرنے کی فکر نہیں، نہ چائے کی ٹرے اٹھانے کی جلدی اور نہ بچوں کو خاموش کروانے کی ضرورت۔
لیکن ابھی ایک کام باقی ہوتا ہے: پورے گھر کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں لانا!
کپ اٹھانے ہوتے ہیں، برتن کچن میں رکھنے ہوتے ہیں، صوفے درست کرنے ہوتے ہیں اور کمرے میں بکھری چیزیں واپس اپنی جگہ پہنچانی ہوتی ہیں۔
کچھ دیر پہلے جو گھر مہمانوں کے استقبال کے لیے چمک رہا تھا، اب اسے دوبارہ صاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اور اس وقت گھر کا ہر فرد ایک ہی بات کہتا ہے:
"اگلی بار مہمان آئیں تو پہلے سے بتا کر آئیں!"
9۔ مہمان رحمت بھی ہوتے ہیں
اتنے سارے مزاحیہ واقعات کے باوجود ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مہمان ہمارے معاشرتی اور خاندانی رشتوں کا خوبصورت حصہ ہیں۔
کبھی کوئی رشتے دار خوشی میں شریک ہونے آتا ہے، کبھی کوئی دوست حال پوچھنے آتا ہے اور کبھی کوئی بزرگ اپنی محبت اور دعاؤں کے ساتھ گھر کی رونق بڑھا دیتے ہیں۔
زندگی کی مصروفیات میں ہم اکثر ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ ایسے میں مہمانوں کی آمد ہمیں اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھنے اور باتیں کرنے کا موقع دیتی ہے۔
اصل خوبصورتی مہنگے کھانوں یا شاندار سجاوٹ میں نہیں بلکہ خلوص، محبت اور اچھے اخلاق میں ہوتی ہے۔
اختتامیہ: مہمان آئیں تو مسکرا کر استقبال کریں!
گھر میں مہمانوں کی آمد کبھی خوشی، کبھی مصروفیت اور کبھی مزاحیہ واقعات کا سبب بن جاتی ہے۔ امی کی صفائی مہم، بچوں کی شرارتیں، چائے کی تیاری اور مہمانوں کے دلچسپ سوالات، یہ سب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔
ہر گھر کی اپنی کہانی ہوتی ہے اور ہر خاندان کے اپنے دلچسپ کردار ہوتے ہیں۔
اس لیے اگلی بار جب اچانک دروازے کی گھنٹی بجے اور امی کی آواز آئے کہ "مہمان آ گئے ہیں!" تو گھبرانے کے بجائے مسکرا دیجیے۔
آخر یہ چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں ہی تو زندگی کو یادگار بناتی ہیں۔
اور ہاں، اگر مہمان جاتے جاتے یہ کہہ دیں کہ "اب جلدی آپ ہمارے گھر آئیے گا"، تو سمجھ لیجیے کہ اگلی دعوت کی تیاری بھی آپ کے حصے میں آ گئی ہے! 😂









Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.