1. تعارف - آج کل ہر بچہ موبائل کا عادی کیوں ہے؟
آج کل ہر گھر کا سب سے بڑا مسئلہ یہی بن گیا ہے کہ بچہ صبح اٹھتے ہی موبائل مانگتا ہے، کھانا کھاتے ہوئے موبائل چاہیے، روتے ہوئے موبائل چاہیے اور سوتے ہوئے بھی موبائل چاہیے۔ ماں باپ بہت پریشان ہیں کیونکہ بچہ پڑھائی سے دور ہو رہا ہے، اس کی آنکھیں کمزور ہو رہی ہیں، اس کا غصہ بڑھ رہا ہے، اس کی نیند خراب ہو رہی ہے اور وہ کسی سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ بہت سے ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ بچہ تو چھوٹا ہے، بڑا ہو کر خود ہی چھوڑ دے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اس عادت کو بچپن میں ہی نہ روکا گیا تو یہ عادت بڑی ہو کر اور بھی زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔ موبائل بذات خود برا نہیں ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال بچے کی صحت، دماغ، آنکھوں، نیند اور اخلاق سب کو خراب کر دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم پیار، صبر اور سمجھداری کے ساتھ بچے کو اس عادت سے نکالیں۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کو 10 ایسے آسان، عملی اور آزمودہ طریقے بتائیں گے جو آپ آج سے ہی اپنے گھر میں اپنا سکتے ہیں اور ان شاء اللہ چند ہی دنوں میں آپ کو واضح فرق نظر آئے گا۔
2. خود مثال بنیں - بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے
پہلا اور سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ آپ خود مثال بنیں کیونکہ بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ اپنے ماں باپ کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اگر گھر میں ماں بھی ہر وقت موبائل پر ہو، باپ بھی ہر وقت موبائل پر ہو، تو بچہ کیسے موبائل چھوڑے گا؟ بچہ یہی سمجھے گا کہ موبائل ہی سب کچھ ہے۔ اس لیے سب سے پہلے آپ کو اپنا موبائل کا استعمال کم کرنا ہوگا، خاص طور پر کھانے کے وقت، بچے کے ساتھ کھیلتے ہوئے اور سونے سے پہلے۔ جب بچہ دیکھے گا کہ امی ابو موبائل کے بغیر بھی خوش ہیں، باتیں کر رہے ہیں، ہنس رہے ہیں اور ایک دوسرے کو وقت دے رہے ہیں، تو وہ بھی آہستہ آہستہ موبائل کو بھولنے لگے گا۔ آپ گھر میں ایک اصول بنا لیں کہ کھانے کے وقت کسی کا بھی موبائل ہاتھ میں نہیں
3. اچانک موبائل نہ چھینیں - بچے کو پہلے تیار کریں
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ بچے کے ہاتھ سے موبائل کو اچانک نہ چھینیں کیونکہ اس سے بچہ ضد، غصہ اور رونا شروع کر دیتا ہے اور موبائل کی طلب اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے ماں باپ غصے میں آ کر بچے کے ہاتھ سے موبائل چھین لیتے ہیں اور بچے کو ڈانٹتے ہیں، جس سے بچہ اور بھی زیادہ موبائل کا دیوانہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بجائے آپ بچے کو پہلے سے تیار کریں۔ مثلاً کہیں کہ بیٹا صرف 10 منٹ موبائل دیکھ لو، اس کے بعد ہم مل کر کھیلیں گے۔ جب 5 منٹ رہ جائیں تو دوبارہ یاد دلائیں کہ بیٹا 5 منٹ رہ گئے ہیں۔ جب وقت ختم ہو جائے تو پیار سے موبائل لے لیں اور فوراً اس کو کسی دوسری سرگرمی میں مصروف کر دیں۔ اس طریقے سے بچے کو یہ محسوس نہیں ہوگا کہ اس کے ساتھ زبردستی ہوئی ہے، بلکہ وہ خود ہی تیار ہو جائے گا۔
4. موبائل کی جگہ کھیل دیں - بچے کو مصروف رکھیں
چوتھا طریقہ یہ ہے کہ موبائل کی جگہ بچے کو کوئی اچھا متبادل دیں کیونکہ خالی دماغ ہی موبائل کی طرف جاتا ہے۔ اکثر بچہ اس لیے موبائل مانگتا ہے کیونکہ اس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا اور گھر میں سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ آپ بچے کے لیے کلرنگ بکس، کہانیوں کی کتابیں، بلاکس، پزل، بال، سائیکل اور دوسرے کھلونے لے کر آئیں۔ بچے کو مٹی سے کھیلنے دیں، پانی سے کھیلنے دیں، کاغذ سےکھیلنےدیں۔

5. روز کا ٹائم ٹیبل بنائیں - روٹین ہی علاج ہے
پانچواں طریقہ یہ ہے کہ بچے کے لیے ایک سادہ اور آسان روزانہ کا ٹائم ٹیبل بنائیں کیونکہ بغیر روٹین کے بچہ سارا دن موبائل میں ہی گزار دیتا ہے۔ جب بچے کو یہ نہیں پتا ہوتا کہ اب اس نے کیا کرنا ہے تو وہ سب سے آسان کام کرتا ہے اور وہ ہے موبائل اٹھا لینا۔ اس لیے آپ ایک چارٹ بنائیں جس میں سونے، اٹھنے، ناشتہ کرنےاور کھیلے۔
6. کھانا موبائل کے بغیر کھلائیں - سب سے بڑی غلطی سے بچیں
چھٹا طریقہ یہ ہے کہ کھانا موبائل کے بغیر کھلائیں کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے بچے کی موبائل کی عادت سب سے زیادہ پکی ہوتی ہے۔ آج کل بہت سی مائیں بچے کو کھانا کھلانے کے لیے اس کے سامنے موبائل رکھ دیتی ہیں تاکہ بچہ چپ چاپ کھانا کھا لے، لیکن یہ عادت بعد میں بہت نقصان دیتی ہے۔ بچہ کھانے کا ذائقہ محسوس نہیں کرتا، وہ زیادہ کھا لیتا ہے یا کم کھا لیتا ہے اور اس کا معدہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے کا دماغ کھانے کی طرف نہیں بلکہ موبائل کی طرف ہوتا ہے، اس لیے وہ کھانے سے لطف بھی نہیں اٹھاتا۔ آپ کو یہ عادت ختم کرنی ہوگی۔ شروع میں بچہ ضد کرے گا، روئے گا، کھانا نہیں کھائے گا، لیکن آپ کو گھبرانا نہیں ہے۔ جب بچے کو بھوک لگے گی تو وہ خود ہی کھانا مانگے گا۔ آپ کھانے کے وقت بچے کو کہانی سنائیں، اس سے باتیں کریں، اس کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلائیں۔ جب کھانا مزے دار اور محبت بھرے ماحول میں کھایا جائے گا تو بچے کو موبائل کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

7. بچے کے ساتھ وقت گزاریں - محبت ہی اصل دوا ہے
ساتواں طریقہ یہ ہے کہ بچے کے ساتھ روزانہ کم سے کم 30 منٹ صرف اس کے لیے نکالیں کیونکہ اکثر بچہ اس لیے موبائل مانگتا ہے کہ وہ تنہا محسوس کرتا ہے اور اس کو کسی کی توجہ نہیں ملتی۔ جب ماں باپ سارا دن کام میں مصروف رہتے ہیں اور بچے کو وقت نہیں دیتے تو بچہ موبائل کو اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ آپ روزانہ بچے کے ساتھ بیٹھیں، اس سے پوچھیں کہ آج اس نے کیا کیا، اس کی کیا پسند ہے، اس کو کیا اچھا لگتا ہے۔ اس کے ساتھ پارک جائیں، اس کو سیر پر لے جائیں، اس کے ساتھ کہانیاں پڑھیں۔ جب بچے کو یہ محسوس ہوگا کہ میرے ماں باپ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور مجھے وقت دیتے ہیں، تو وہ موبائل کو چھوڑ دے گا۔ بچے کو آپ کی محبت اور توجہ موبائل سے کہیں زیادہ پیاری ہوتی ہے، بس اس کو یہ محبت محسوس کروانے کی ضرورت ہے۔
8. موبائل میں لاک لگائیں
آٹھواں طریقہ یہ ہے کہ موبائل میں لاک لگائیں تاکہ بچہ خود موبائل نہ کھول سکے اور غلط چیزیں نہ دیکھ سکے۔
9. دوسرے بچوں سے ملوائیں
نواں طریقہ یہ ہے کہ بچے کو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے دیں تاکہ وہ تنہا نہ رہے اور موبائل بھول جائے۔

10. پیار اور صبر سے کام لیں
دسواں طریقہ یہ ہے کہ بچے کو ڈانٹیں نہیں بلکہ پیار اور صبر سے سمجھائیں تاکہ وہ موبائل چھوڑ دے۔









Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.