تم کبھی سوئے ہی نہیں۔ تم صرف آنکھیں بند کرتے ہو۔
جسم بستر پر ہوتا ہے لیکن دماغ کسی جنگ پر ہوتا ہے۔ کل کی پریشانی، آنے والے کل کا خوف، کسی نے کیا کہا، میں نے ایسا کیوں کہا، میرا مستقبل کیا ہوگا۔ یہ سوچوں کا ایک ایسا طوفان ہے جو رکتا ہی نہیں۔ اگر تم رات کے دو بجے چھت کو گھور رہے ہو تو یہ تحریر تمہارے لیے ہے۔ اس بیماری کا نام ہے اوور تھنکنگ۔
یہ جنریشن زی کی سب سے بڑی بیماری ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہم سوچ کر مسئلہ حل کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم سوچ سوچ کر مسئلہ بنا رہے ہیں۔

ہمارا دماغ ہمارا دشمن کیسے بن گیا؟
اللہ نے انسان کو دو چیزیں دی ہیں، دل اور دماغ۔ دل کا کام محسوس کرنا ہے اور دماغ کا کام سوچنا ہے۔ لیکن ہم نے دل سے سوچنا شروع کر دیا اور دماغ سے محسوس کرنا۔
سائنس کہتی ہے ہمارے دماغ میں ایک حصہ ہے جسے Default Mode Network کہتے ہیں۔ جب ہم فارغ ہوتے ہیں تو یہ حصہ خود بخود چل پڑتا ہے اور پرانی باتوں کو ری پلے کرتا ہے۔ یہی اوور تھنکنگ ہے۔
اسلام میں اسے وسوسہ کہا گیا ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے "جو سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے"۔ سورہ الناس۔ یہ وسوسہ شیطان نہیں، یہ تمہارا اپنا بے قابو نفس ہے جو تمہیں کہتا ہے سب ختم ہو گیا۔
ہم نے اپنے دماغ کو انسٹاگرام بنا دیا ہے۔ ہر پانچ سیکنڈ میں نئی انفارمیشن، نئی سٹوری، نئی ٹینشن۔ دماغ تھک چکا ہے۔ اس لیے وہ ہر چیز کو خطرہ سمجھتا ہے۔
جنریشن زی کیوں سب سے زیادہ پریشان ہے؟
پہلی وجہ ہے موازنہ۔ تم اپنے دن کا بدترین لمحہ، کسی اور کے دن کے بہترین لمحے سے موازنہ کرتے ہو۔ وہ دبئی میں ہے، میں گاؤں میں ہوں۔ اس کی جاب لگ گئی، میری نہیں لگی۔ یہ موازنہ زہر ہے۔
دوسری وجہ ہے مستقبل کا خوف۔ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا ہے کہ اگر تم نے ابھی کچھ بڑا نہ کیا تو تم ناکام ہو۔ اس لیے ہم ہر وقت بھاگ رہے ہیں۔ لیکن ہمیں پتہ ہی نہیں کہاں بھاگنا ہے۔
تیسری وجہ ہے تنہائی۔ ہم سب سے جڑے ہیں لیکن کسی کے ساتھ بھی نہیں۔ ہمارا دکھ سننے والا کوئی نہیں۔ اس لیے ہم سارا دن دماغ میں ہی باتیں کرتے رہتے ہیں۔
اس عذاب سے نکلنے کے 5 روحانی اور سائنسی طریقے
یہ موٹیویشن نہیں، یہ طریقہ علاج ہے۔
1. پانچ منٹ کا قانون:
جب بھی کوئی سوچ آئے جو تمہیں پریشان کرے، اسے فوراً لکھ لو۔ ایک کاپی رکھو۔ لکھو کہ میں اس وقت کیا سوچ رہا ہوں۔ جیسے ہی تم لکھو گے، تمہارا دماغ اس سوچ کو کچرا سمجھ کر باہر پھینک دے گا۔ سائنس کہتی ہے جو چیز لکھی جائے وہ دماغ سے نکل جاتی ہے۔ اسے جرنلنگ کہتے ہیں، اسلام میں اسے محاسبہ نفس کہتے ہیں۔
2. وضو کا سائنسی معجزہ:
جب تمہیں شدید اضطراب ہو، فوراً ٹھنڈے پانی سے وضو کرو۔ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ ٹھنڈا پانی تمہاری ویگس نرو کو ایکٹو کرتا ہے جو تمہارے دل کی دھڑکن کو فوراً کم کر دیتی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کے وقت وضو کا حکم اسی لیے دیا تھا۔
3. ذکر سے دماغ کو ری سیٹ کرو:
ہم تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر بھی سوچتے رہتے ہیں۔ ایسے نہیں۔ رات کو سونے سے پہلے تمام لائٹس بند کر کے صرف پانچ منٹ کے لیے گہری سانس لے کر "حسبنا اللہ و نعم الوکیل" پڑھو۔ سانس ناک سے لو اور منہ سے نکالو۔ یہ جملہ تمہارے دماغ کو بتاتا ہے کہ تم اکیلے نہیں ہو، تمہارے ساتھ اللہ ہے۔
4. 70 فیصد والا اصول:
جنریشن زی ہر چیز میں سو فیصد پرفیکٹ بننا چاہتی ہے۔ یہی اوور تھنکنگ کی جڑ ہے۔ آج سے ستر فیصد والا اصول اپناؤ۔ تمہارا کمرہ ستر فیصد صاف ہے تو کافی ہے۔ تمہارا کام ستر فیصد مکمل ہے تو کافی ہے۔ پرفیکشن نے ہماری نسل کو بیمار کر دیا ہے۔
5. فجر سے دوستی:
تمہاری ساری اوور تھنکنگ کی وجہ رات کو جاگنا ہے۔ رات شیطان اور وسوسوں کا وقت ہے۔ کوشش کرو کہ عشاء کے بعد سکرین بند کر دو۔ فجر کے وقت اٹھو۔ فجر کے بعد کا وقت ایسا ہے جس میں برکت ہے۔ اس وقت تمہارا دماغ سب سے زیادہ صاف ہوتا ہے۔ جو سکون تمہیں رات کے تین بجے سوچوں میں نہیں ملتا وہ صبح پانچ بجے خاموشی میں ملے گا۔

آخری بات جو تمہیں کوئی نہیں بتائے گا
سنو، تمہاری سوچیں حقیقت نہیں ہیں۔ یہ صرف تمہارے دماغ میں چلنے والی فلمیں ہیں۔ تم وہ نہیں ہو جو تم سوچتے ہو، تم وہ ہو جو تم کرتے ہو۔
اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے "خبردار اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے"۔ سورہ رعد آیت 28۔ یہ سکون تمہیں کسی انسان، کسی پیسے یا کسی کامیابی سے نہیں ملے گا۔ یہ صرف اوپر والے سے ملے گا۔
تم ناکام نہیں ہو، تم صرف تھک چکے ہو۔ اور تھکا ہوا انسان سوچتا زیادہ ہے، کرتا کم ہے۔ آج سے کرنا شروع کرو، سوچنا بند کرو۔
تم اکیلے نہیں ہو۔ اس وقت ہزاروں لوگ تمہاری طرح جاگ رہے ہیں۔ لیکن جو جاگ کر اللہ کو یاد کر لیتا ہے وہی کامیاب ہے
آج کے نوجوان کا سب سے بڑا دشمن اس کا موبائل ہے۔ ہم صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے موبائل چیک کرتے ہیں۔ کسی کی سٹوری، کسی کی کامیابی دیکھ کر ہمارا دن شروع سے ہی خراب ہو جاتا ہے۔ ہمارا دماغ دن کی شروعات میں سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے اور ہم اسی وقت اس میں دوسروں کا زہر بھر دیتے ہیں۔ کوشش کرو کہ صبح اٹھنے کے بعد ایک گھنٹے تک موبائل کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ اس ایک گھنٹے میں وضو کرو، فجر پڑھو، تھوڑی دیر خاموش بیٹھو۔ تم خود محسوس کرو گے کہ تمہارا پورا دن پرسکون گزرے گا۔
آج کے نوجوان کا سب سے بڑا دشمن اس کا موبائل ہے۔ ہم صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے موبائل چیک کرتے ہیں۔ کسی کی سٹوری، کسی کی کامیابی دیکھ کر ہمارا دن شروع سے ہی خراب ہو جاتا ہے۔ ہمارا دماغ دن کی شروعات میں سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے اور ہم اسی وقت اس میں دوسروں کا زہر بھر دیتے ہیں۔ کوشش کرو کہ صبح اٹھنے کے بعد ایک گھنٹے تک موبائل کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ اس ایک گھنٹے میں وضو کرو، فجر پڑھو، تھوڑی دیر خاموش بیٹھو۔ تم خود محسوس کرو گے کہ تمہارا پورا دن پرسکون گزرے گا۔ سوشل میڈیا حقیقت نہیں ہے، یہ صرف ایک دکھاوا ہے۔







Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.