یہ کہانی ایک عام سی لڑکی کی ہے ایک عام سی لڑکی جو کبھی عام نہیں ہونا چاہتی تھی یہ کہانی اس لڑکی کی ہے جو دنیا میں اپنا نام بنانا چاہتی تھی یہ کہانی اس لڑکی کی ہے جو محبت کرنا اور محبت میں پروان چڑھنا چاہتی تھی یہ کہانی میری ہے یہ کہانی میرے اندر کی محرومیوں کی ہے کچھ عرصہ پہلے ہی میں نے ایک انسٹاگرام پیج شروع کیا ہے جو پراگریس میں ہے جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے ۔ اور کوئی ایک ہفتہ پہلے ہی میری ایک دوست بنی اسی اکاؤنٹ پہ اور اس کو میری پوسٹ پڑھ کر لگا کہ شاید مجھے کسی نے توڑا ہے کسی نے میرا دل روندا ہے حقیقت تو یہی ہے کہ روندا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دل کسی لڑکے نے نہیں توڑا کسی عشق محبت میں نہیں ٹوٹا یہ دل تو لوگوں کے برتاؤ ان کے دیے گئے حالات میں ٹوٹا ہے میں اس وقت پچیس سال کی ہوں لیکن باتیں پچاس کی ہیں دل میں غبار اسی سال کا ہے۔
زندگی کے خلاء heading 2
مگر کوئی سننے والا یا سمجھنے والا نہیں ہے۔ لوگ صرف جج ہی تو کرتے ہیں اور ہاں شاید میں نے اسی لیے کبھی کسی کو اتنا پاس آنے ہی نہیں دیا ہمیشہ سے ہی ایک باؤنڈری بنا کر رکھی کہ کوئی نا محرم قریب ہی نا آ سکے میرا شوہر وہ پہلا شخص ہے جو میرے اتنا قریب ہے اور یقینی طور پر آخری بھی مجھے ہمیشہ سے لگتا تھا کہ وہ شخص میرے اتنے قریب ہوگا جتنا کوئی نہیں ہوسکتا وہ مجھے سمجھے گا سنے گا اور مجھے اہمیت دے اس رشتے کے شروع میں ایسا احساس تو ہوا مگر وقت کے ساتھ مر گیا کیوں کہ وہ بھی باقی لوگوں کی طرح مجھے سمجھانا چاہتا ہے سمجھنا نہیں خیر اب میں خوابوں کی اس دنیا سے نکل آئی ہوں جو کبھی میں نے سوچے بھی تھے۔
میرا ان تمام لوگوں کو بس ایک پیغام ہے زندگی سب کچھ سہی ہونے کا نام نہیں ہے یہ تو سب کچھ بگڑنے کا نام ہے جتنی چیزیں یہاں بگڑیں گی اگلے جہاں میں اتنی ہی سنوریں گی تو مشکلات سے گھبرانا بےوقوف کا کام ہے سہولیات شہزادے اور تو اور پریوں جیسا احساس صرف کتابوں میں ہوتا ہے حقیقت کا کیا تعلق ان چیزوں سے۔ اس دنیا میں تو شہزادیوں کو بھی ایک ہنستی زندگی نہیں ملی تو ہم کون؟ دراصل اس میں بھی ہمارا ہی قصور ہے میں بچپن میں فیری ٹیلز اور باربی دیکھ دیکھ کر اتنی عادی ہو گئی کہ اب تک یہی لگ رہا تھا کہ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوگا مگر اب سمجھ آئی نہیں مجھے روشنیوں کی طرف لے جانے کے لیے کوئی شہزادہ نہیں آئے گا مجھ خود جانا ہوگا مجھے خود کو خود بچانا ہوگا۔ اور یہی حقیقت ہے۔ اور جو انسان کو مکمل سمجھتا ہے وہ صرف اللّٰہ ہوتا ہے۔ اس ایک رحمن کے سوا کوئی نہیں اور جو مجھے بچپن سے اسرا سہارا چاہیے وہ اس قادر مطلق کے سوا کہیں نہیں ملے گا۔ کہنے کا یہ مقصد ہے کہ ایک اچھی زندگی ایک اچھی اور حقیقت پہ مبنی ایک سوچ مانگتی ہے کچھ ذہنوں میں جو ڈالنا شروع کردو وہ وہی سوچنا اور مینیفیسٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔مجھے یہ بتایا گیا کہ ڈاکٹر بننا ہے لیکن کسی نے یہ نہیں۔ بتایا کہ اس کے لیے کرنا کیا ہے۔ اور میں خود ہی ایک ناتعین کئے راستے پہ چلتی گئی اور چلتی ہی گئی جس کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔ اب میں اپنی مرضی سے خود راستے ڈھونڈنا بھی چاہتی ہوں اور بنانا بھی اور اسی کوشش میں ایک نیا سفر شروع بھی کیا ہے اس میں میں اکیلی ہوں اور اکیلے ہی چل رہی ہوں اور مجھے یقین ہے ایک دن ضرور اپنی منزل پا لوں گی۔ اس سفر کی شمع اللّٰہ نے میرے ہاتھ میں تھمائی ہے اور وہی منزل تک لے کر جائے گا انشااللہ۔
ہر دل ٹوٹنے کے پیچھے کوئی محبت یا عشق نہیں ہوتا بعض اوقات لوگ ہوتے ہیں اور ان کے رویے اور دوستی کے معاملے میں تو میں ہمیشہ ہی کچی رہی ہوں جس کو دوست کا فتنہ اور نام دیا اس نے ہی فریب کیا۔ کیا سمجھ ہوتی ہے ایک پانچ سال کے بچے کی اگر اس کی زندگی میں وہیں سے فرق شروع ہو جائے تو شاید لوگ جان بوجھ کے نا بھی کرتے ہوں مگر محسوس پھر بھی ہوتا ہے۔ کبھی سکول میں حسد کا سامنااور لوگوں کا جان۔ بوجھ کر آپ کی ترقی میں پتھر اٹکانا اور کبھی گھر میں بڑی بننے کا ثبوت کبھی کزنز میں آپ کو زیادہ خوبصورت ہونے پہ حسد کیا جانا کبھی آپ کے معصوم زہن کو استعمال کرتے نیچا دکھانا کیا ہی لگتا ہوگا اس بچے کو۔ پھر سکول سے کالج کالج سے یونیورسٹی کا سفر ایسے ہی گزر گیا۔ اب ایک نئے سفر کے چیلنج منتظر ہیں لیکن ایک مزے کی بات مجھ اپنی ہار کا جواب مل گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ قربانیاں دینا انسان کو کبھی کامیاب نہیں کرتا۔ جب اللّٰہ نے سب سے پہلے آپ پر آپ کا حق رکھا ہےتو آپ دوسروں کو کیوں چنتے ہیں۔ میں نے اب خود کو چن لیا ہے اور ابھی کرنا کچھ بھی شروع نہیں کیا مگر ایک جیت کا احساس جڑ گیا ہے میں نے یہ سوچ بھی چھوڑ دی ہے کہ کوئی کیا سوچے گا۔ کیوں کہ کسی نے کبھی میرے لیے نہیں سوچا اور اب کی بار کوئی اور نہیں صرف میں اور میرا اللّٰہ یہ دی گئی طاقت بھی اسی کی ہے۔
توکل heading 3
اسی نے راستے بھی دکھایا ہے وہی مدد بھی کرے گا۔ مگر یادرہے کسی کا دل نہیں۔ دکھانا یہ بھی میں ملحوظ رکھتی ہوں کسی نے جو میرے ساتھ کیا وہ کسی دوسرے کے ساتھ نہیں۔ کرنا اور بس توکل کے ساتھ آگے بڑھنا ہے میں آج تک کبھی اپنی مخلص دوستوں کو نہیں بھولی اور نا ہی کبھی ان کو جنہوں نے میرا دل انتہا کا دکھایا مجھے آج بھی یاد ہے وہ ون کلاس کی زینب جس کی میں ہمیشہ پراوریٹی ہوتی تھی جس طرح سے وہ میرا خیال رکھتی اور مجھے آج بھی وہ سویرا یاد ہے بی ایس کی جوفرقہ واریت پر کس طرح میرا دل کچل کے چلی جاتی تھی بس اب میں کسی کو نہ دل کچلنے دوں گی نہ ہی کسی کو اپنے ساتھ کوئی زیادتی کرنے دوں گی نا ہی کسی کی توجہ کی محتاج ہوں گی میں ثمین ہوں اور میں اپنا نام خود بناؤ گی۔
یہ پوسٹ ان تمام اس طرف کی ثمین کے نام۔

You must be logged in to post a comment.