Article.Pk - Write, Earn, and Be Heard

ایک لڑکی کی اَن کہی کہانی

مریم کی کہانی بچپن کی دوستی، محبت، بھروسے اور اپنوں کی بےوفائی کی داستان ہے۔ کرن اور اسد کے بدلتے رویّوں نے اسے دکھ دیا، مگر اس نے ہمت نہیں...

MMishal28 October 2026
  • 19views
  • 1paid views
ایک لڑکی کی اَن کہی کہانی

‎جب اپنے ہی بدل گئے
‎
‎محبت، دوستی اور ٹوٹے ہوئے بھروسے کی کہانی
‎
‎باب اوّل: محبت بھرا بچپن
‎
‎ملتان کے ایک چھوٹے سے گھر میں مریم اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی۔ ان کا گھر بہت بڑا نہیں تھا۔ اس میں ایک کمرہ تھا اور اس کے سامنے ایک برآمدہ۔ گھر چھوٹا ضرور تھا، لیکن اس میں اپنائیت اور محبت کی کمی نہیں تھی۔
‎
‎گھر کے آس پاس بیر، نیم اور انار کے درخت تھے۔ مریم کی امی کو پودے لگانے کا بہت شوق تھا۔ وہ گھر میں درخت اور پودے لگاتی تھیں، جن سے گھر کا ماحول خوب صورت لگتا تھا۔ ان درختوں کے درمیان گزرتا ہوا بچپن مریم کی زندگی کی حسین یادوں میں شامل تھا۔
‎


‎مریم اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی بیٹی تھی، اس لیے گھر میں سب کی لاڈلی تھی۔ خاص طور پر اس کے ابو اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ مریم کے لیے اپنے والد کی محبت بہت قیمتی تھی۔ وہ اس کے چھوٹے چھوٹے نخرے اٹھاتے اور اس کی خوشی کا خیال رکھتے تھے۔
‎


‎بچپن میں مریم کی ایک عادت بہت مشہور تھی۔ وہ رات کو دودھ پیے بغیر سوتی نہیں تھی۔ کبھی کبھی اس کے ابو شام کو کام سے باہر ہوتے یا دوستوں کے ساتھ گئے ہوتے، لیکن مریم ان کا انتظار کرتی رہتی۔ اسے یقین ہوتا تھا کہ ابو آئیں گے تو اس کے لیے دودھ بھی لے کر آئیں گے۔
‎
‎جب تک ابو واپس آ کر اس کے لیے دودھ نہ لے آتے، مریم کو سکون نہیں آتا تھا۔ اس عمر میں اسے شاید یہ احساس نہیں تھا کہ والدین کی چھوٹی چھوٹی محبتیں زندگی بھر کے لیے یادیں بن جاتی ہیں۔
‎
‎مریم کا بچپن سادگی، اپنائیت اور والدین کی محبت میں گزرا۔ چھوٹے سے گھر میں رہتے ہوئے بھی اس کے پاس خوش رہنے کی بہت سی وجوہات تھیں۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وقت کے ساتھ زندگی بدلتی ہے اور انسان کو ایسے تجربات سے بھی گزرنا پڑتا ہے جو اس کے دل پر گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔
‎
‎باب دوم: اسکول کے دن اور بچپن کی دوستیاں
‎
‎وقت گزرتا گیا اور مریم نے اسکول جانا شروع کر دیا۔ وہ پڑھائی میں اچھی تھی اور ٹیسٹ میں بھی اچھے نمبر حاصل کرتی تھی۔ اس کی تعلیمی کارکردگی اچھی رہی اور وہ اپنی کلاسوں میں آگے بڑھتی رہی۔
‎
‎اسکول سے واپس آنے کے بعد وہ گھر میں اپنا ہوم ورک مکمل کرتی اور پھر ٹیوشن پڑھنے چلی جاتی۔ اس کی روزمرہ زندگی میں پڑھائی ایک اہم حصہ تھی۔ اس کے اساتذہ بھی اسے پسند کرتے تھے اور ان کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے تھے۔
‎
‎مریم کی بچپن کی قریبی سہیلیوں کے نام سائرہ اور حمیرا تھے۔ بچپن میں بننے والی دوستیاں انسان کے دل میں ایک خاص جگہ رکھتی ہیں۔ ان دنوں مریم کی زندگی میں پڑھائی، گھر اور دوستوں کے ساتھ گزرنے والا وقت اہم تھا۔
‎
‎بعد میں جب وہ بڑی ہوئی تو اس نے چھٹی جماعت میں ایک سرکاری اسکول میں داخلہ لے لیا۔ وہاں اس کی دوستی رفعت اور ریحانہ سے ہوئی۔ نئے اسکول اور نئے ماحول میں اس نے نئی سہیلیاں بنائیں اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔
‎
‎اسکول کی زندگی میں مریم نے بہت سے تجربات حاصل کیے۔ وہ ہر سال اگلی جماعت میں جاتی رہی اور اس کے تعلیمی سفر کے ساتھ اس کی عمر بھی بڑھتی رہی۔
‎
‎اس وقت زندگی بظاہر بہت سادہ تھی۔ مریم کو ابھی ان رشتوں کی پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا جو آگے چل کر اس کے لیے ایک بڑا امتحان بننے والے تھے۔
‎
‎باب سوم: کالج، کرن اور اسد
‎
‎وقت کے ساتھ مریم کالج پہنچ گئی۔ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے دوران اس کی دوستی کرن نامی لڑکی سے ہوئی۔ رفتہ رفتہ دونوں کے درمیان قربت بڑھنے لگی اور کرن مریم کی بہت قریبی دوست بن گئی۔
‎
‎مریم کرن پر بھروسا کرتی تھی۔ وہ اسے اپنے گھر کی باتیں بتاتی، اپنے دل کی پریشانیاں اس کے ساتھ بانٹتی اور اپنی زندگی کے اہم معاملات پر بھی اس سے بات کرتی تھی۔ مریم کے لیے کرن صرف ایک سہیلی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی رازدار تھی جس کے سامنے وہ اپنے دل کی بات کہہ سکتی تھی۔
‎
‎مریم کی زندگی میں اسد نامی ایک کزن بھی تھا۔ مریم اسد کو پسند کرتی تھی اور اسد بھی اسے پسند کرتا تھا۔ دونوں کے درمیان اکثر فون پر بات ہوتی اور پیغامات کے ذریعے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ان کے درمیان جذباتی وابستگی بڑھتی گئی۔
‎


‎مریم اور اسد ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرنے اور زندگی گزارنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ مریم نے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے اس رشتے سے امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ لیکن دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات تھے اور ان کے گھر والے ایک دوسرے سے خوش نہیں تھے۔ اسی وجہ سے مریم کے خاندان نے اس رشتے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
‎
‎یہ صورتِ حال مریم کے لیے آسان نہیں تھی۔ ایک طرف اس کی اسد سے وابستگی تھی اور دوسری طرف خاندان کے اختلافات تھے۔ ایسے میں وہ اپنے دل کی باتیں کرن کے ساتھ بانٹتی تھی۔
‎
‎مریم کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس دوست کو وہ اپنے اتنا قریب سمجھتی ہے، وہ اسد سے اس کی لاعلمی میں رابطہ کرنے لگی ہے۔
‎
‎شروع میں کرن نے مریم سے بات کرنا کم کر دیا۔ جب مریم اس سے رابطہ کرتی تو وہ کبھی گھر کے کاموں میں مصروف ہونے کا کہتی اور کبھی اپنی مصروفیات کا ذکر کرتی۔ مریم اس کی باتوں پر یقین کر لیتی، کیونکہ اسے اپنی دوست پر بھروسا تھا۔
‎
‎دوسری طرف اسد نے بھی مریم کو یہ نہیں بتایا کہ کرن کے ساتھ اس کا رابطہ بڑھ رہا ہے۔ مریم اپنی دوستی اور محبت دونوں پر بھروسا کیے بیٹھی تھی، جبکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آنے والا ہے جو اس کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دے گا۔
‎
‎باب چہارم: جب بھروسا ٹوٹ گیا
‎
‎ایک دن مریم کی امی اپنے میکے، یعنی مریم کی نانی کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ وہاں انہیں ایک ایسی خبر ملی جس نے انہیں حیران کر دیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ مریم کی دوست کرن گھر سے اپنا سامان لے کر اسد کے گھر چلی گئی ہے۔
‎
‎جب مریم کی امی واپس آئیں تو انہوں نے مریم کو یہ بات بتائی۔
‎
‎خبر سنتے ہی مریم حیران رہ گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہ سب کیسے ہو گیا۔ جس کرن کو اس نے اپنا رازدار بنایا تھا، وہ اسد کے گھر چلی گئی تھی۔ اسد وہ شخص تھا جس سے مریم محبت کرتی تھی اور جس کے ساتھ اس نے شادی کے خواب دیکھے تھے۔
‎
‎مریم کے دل میں بہت سے سوال اٹھنے لگے۔ کیا کرن کو اس کے جذبات کا علم نہیں تھا؟ کیا اسے مریم کی وہ باتیں یاد نہیں تھیں جو وہ اپنی دوست سمجھ کر اس کے ساتھ بانٹتی تھی؟ کیا اسد کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کے اس عمل سے مریم کو کتنی تکلیف پہنچ سکتی ہے؟
‎


‎مریم کے لیے یہ صرف ایک دوستی کے ختم ہونے کا معاملہ نہیں تھا۔ اسے بیک وقت دو ایسے لوگوں سے صدمہ پہنچا تھا جنہیں وہ اپنی زندگی میں بہت اہم سمجھتی تھی۔ ایک طرف اس کی قریبی دوست تھی اور دوسری طرف وہ شخص تھا جس کے ساتھ اس نے مستقبل کے خواب دیکھے تھے۔
‎
‎کبھی کبھی انسان کو سب سے زیادہ تکلیف کسی اجنبی سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے پہنچتی ہے جن پر وہ سب سے زیادہ بھروسا کرتا ہے۔ مریم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اسے شاید اس بات کا دکھ بھی تھا کہ جن باتوں کو اس نے راز سمجھ کر کرن کے ساتھ بانٹا تھا، اسی دوستی کے دوران حالات اس کے خلاف بدلتے رہے اور اسے خبر تک نہ ہوئی۔
‎
‎اس دن کے بعد مریم نے اسد اور کرن، دونوں سے رابطہ ختم کر دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ مزید خود کو اس صورتِ حال میں نہیں الجھائے گی۔
‎
‎یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ کسی سے تعلق ختم کر دینا اور اس کے ساتھ وابستہ یادوں سے نکل آنا دو الگ باتیں ہیں۔ رابطہ تو ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن دل کو ماضی سے نکلنے میں وقت لگتا ہے۔
‎
‎مریم کو بھی خود کو سنبھالنے کے لیے وقت درکار تھا۔ اسے اپنی زندگی کے ایک اہم حصے کو پیچھے چھوڑنا تھا اور اپنے مستقبل کے بارے میں دوبارہ سوچنا تھا۔
‎
‎باب پنجم: ماضی سے آگے کا سفر
‎
‎اس واقعے کے بعد مریم نے آہستہ آہستہ خود کو سنبھالنا شروع کیا۔ اس نے اسد اور کرن کو اپنی زندگی سے پیچھے چھوڑنے اور اپنی توجہ دوبارہ اپنے مستقبل پر مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔
‎
‎زندگی میں بعض واقعات انسان کو اندر سے بدل دیتے ہیں۔ وہ پہلے کی طرح ہر کسی پر آسانی سے بھروسا نہیں کر پاتا، لیکن وقت اسے یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی ایک تلخ تجربے کی وجہ سے اپنی پوری زندگی کو روک دینا درست نہیں۔
‎
‎مریم کی زندگی میں بھی ایک نیا مرحلہ شروع ہونے والا تھا۔ اسکول اور کالج کے بعد اب اس کے سامنے یونیورسٹی کی زندگی تھی۔ اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
‎
‎اس کی کہانی میں بچپن کی معصوم خوشیاں بھی تھیں، دوستوں کے ساتھ گزرے دن بھی، محبت کے خواب بھی اور بھروسا ٹوٹنے کا دکھ بھی۔ لیکن ان تمام تجربات کے باوجود مریم کی زندگی آگے بڑھ رہی تھی۔
‎
‎اسد اور کرن کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس کی زندگی کا ایک اہم باب تھا، مگر اس کی پوری زندگی نہیں تھا۔ ماضی کو بدلا نہیں جا سکتا تھا، لیکن وہ اپنے آنے والے کل کے لیے نئے فیصلے ضرور کر سکتی تھی۔
‎
‎مریم کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محبت اور دوستی دونوں میں بھروسا بہت اہم ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے دل کی بات بتانا اور اسے اپنی زندگی میں جگہ دینا آسان نہیں ہوتا۔ اسی لیے جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو اس کا اثر گہرا ہو سکتا ہے۔
‎
‎لیکن زندگی کا مطلب صرف ان لوگوں کو یاد کرتے رہنا نہیں جنہوں نے ہمیں دکھ پہنچایا۔ کبھی کبھی آگے بڑھنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے ماضی کو قبول کرے، اس سے سبق سیکھے اور اپنی زندگی کے لیے نئے راستے تلاش کرے۔
‎
‎مریم نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ اس کی زندگی میں کیا کچھ مزید ہونے والا تھا، یہ وقت کے ساتھ سامنے آنا تھا، لیکن ایک بات واضح تھی: وہ اپنی کہانی کو اس ایک واقعے پر ختم نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔
‎
‎اختتام: ایک نئی شروعات
‎
‎ہر رشتہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا، لیکن ہر رشتہ ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا جاتا ہے۔ بعض لوگ ہماری زندگی میں خوشیاں لے کر آتے ہیں اور بعض ہمیں یہ سمجھا جاتے ہیں کہ اپنے دل اور اپنے مستقبل کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے۔
‎
‎مریم کی کہانی محبت کے ایک خواب کے ٹوٹنے کی کہانی ضرور ہے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ زندگی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کہانی ہے۔ اس نے ماضی کے دکھ کو اپنی پوری زندگی نہیں بننے دیا، بلکہ خود کو سنبھالنے اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
‎
‎کیونکہ بعض اوقات زندگی کا سب سے مشکل باب ہی انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ٹوٹے ہوئے بھروسے کے بعد بھی آگے بڑھنا ممکن ہے۔
‎

M
Written by
@mishal · 2 articles · Joined Oct 2026

I am an aspiring writer from Pakistan. I love writing Urdu stories, emotional fiction, and stories inspired by real-life experiences. My goal is to share meaningful stories that touch readers' hearts.

Comments 0

Sign in to join the conversation.

No comments yet. Be the first to say something.

Keep reading

The War of Independence 1857 And the Role of Sir Sayed Ahmed KhanLiterature & Movements5.4kviews7paid views

The War of Independence 1857 And the Role of Sir Sayed Ahmed Khan

The War of Independence 1857, also known as the Sepoy Mutiny, was a dark period in India's history when the British took over and established British India. This article explores...

HTHajra Tareen
  • 5.4kviews
  • 7paid views
  • 10 May 2023published
Quaid e azam: the founder of Pakistan and the leader of All-india Muslim leagueLiterature & Movements5.3kviews

Quaid e azam: the founder of Pakistan and the leader of All-india Muslim league

Its all about pakistan founder.

AAnus
  • 5.3kviews
  • 1comments
  • 4 Oct 2024published
Savior Of Mankind Hazrat Muhammad (pbuh)Lifestyle5.4kviews9paid views

Savior Of Mankind Hazrat Muhammad (pbuh)

Hazrat Muhammad (PBUH), the last Prophet of Allah, is the savior of mankind. He was born in the city of Mecca in the year 570 AD, and his life's journey...

HTHajra Tareen
  • 5.4kviews
  • 9paid views
  • 9 May 2023published
Proverbs and their significance in any cultureLiterature & Movements2.4kviews10paid views

Proverbs and their significance in any culture

Proverbs are a form of traditional wisdom that has been passed down from generation to generation in many cultures around the world. These short and concise sayings are often based...

HTHajra Tareen
  • 2.4kviews
  • 10paid views
  • 11 May 2023published
Exploring Literature and Movements: A Journey Through Literary History and Its Influential ErasLiterature & Movements1.5kviews

Exploring Literature and Movements: A Journey Through Literary History and Its Influential Eras

This article delves into the world of literature and the significant movements that have shaped literary history. From the romanticism of the 19th century to the modernist revolution, discover how...

FSFatima Syed
  • 1.5kviews
  • 14 Jan 2025published
Thematic Exploration of Lewanay Pashtun Philosopher Ghani Khan’s (ريډي ګل) (Poppy Flower)Literature & Movements1.7kviews2paid views

Thematic Exploration of Lewanay Pashtun Philosopher Ghani Khan’s (ريډي ګل) (Poppy Flower)

Ghani Khan, the Lewanay (mad) Pashtun philosopher-poet, uses his poetry collection ريډي ګل (Poppy Flower) to traverse a rich spectrum of philosophical, social, and mystical themes. This article offers a...

ZKZahid khan
  • 1.7kviews
  • 2paid views
  • 12 Jun 2025published